Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
70 - 342
کام الفت کے تھے وہ جن کو صحابہ نے کیا

کیا نہیں یاد تمہیں ''غار'' میں جانے والا
تبصرہ
    کسی کام کے انجام اورمستقبل کے حالات کو جان لینا، ہر شخص جانتا ہے کہ یقینایہ غیب کا علم ہے ۔ امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا کرامات سے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوجاتاہے کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے کشف والہام کے طور پر ان غیبوں کا علم عطافرما دیا تھا-                                  ِلله!انصاف کیجئے کہ جب خلیفہ پیغمبرکو اللہ تعالیٰ نے الہام وکشف کے ذریعہ علم غیب کی کرامت عطافرمائی تو کیا اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو اپنی مقدس وحی کے ذریعہ علم غیب کا معجزہ نہ عطا فرمایا ہوگا؟کیا معاذ اللہ!اللہ تعالیٰ کو علم غیب بتانے کی قدرت نہیں یا نعوذباللہ ! نبی علیہ الصلوۃ والسلام میں علم غیب حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں۔ بتائيے دنیا میں کو ن ایسا احمق ہے جو خدا عزوجل کی قدرت اوراس کے نبی علیہ الصلوۃ و السلام کی صلاحیت سے انکارکرسکتا ہے جب خدا عزوجل کی قدرت مسلم اورنبی علیہ الصلوۃ و السلام کی صلاحیت تسلیم ہے تو پھر بھلانبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے علم غیب کا انکار کس طرح ممکن ہوسکتاہے؟

    مگر افسوس صدہزارافسوس کہ وہابی علماء جو عظمت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو گھٹانے کے لیے لنگر لنگوٹ کس کر بلکہ برہنہ ہوکر میدان میں اتر پڑے ہیں یہ سب کچھ جانتے ہوئے اورسینکڑوں آیات بینات اور دلائل وشواہد کو دیکھتے ہوئے بھی آنکھ میچ کر حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے علم غیب کا چلا چلا کرانکار کرتے رہتے ہیں اوراپنے
Flag Counter