Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
65 - 342
ہرگز ہرگزکسی حال میں بھی میرے نزدیک قابل قبول نہیں ہوسکتا میں اس لشکر کو ضرور روانہ کروں گا اوراس میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں کروں گا ۔ چنانچہ آپ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے منع کرنے کے باوجود اس لشکر کو روانہ کردیا ۔ خدا کی شان کہ جب جوش جہاد میں بھرا ہوا عساکر اسلامیہ کا یہ سمندر موجیں مارتا ہوا روانہ ہوا تو اطراف وجوانب کے تمام قبائل میں شوکت اسلام کا سکہ بیٹھ گیا اورمرتد ہوجانے والے قبائل یا وہ قبیلے جو مرتد ہونے کا ارادہ رکھتے تھے، مسلمانوں کا یہ دل بادل لشکر دیکھ کر خوف ودہشت سے لزرہ براندام ہوگئے اورکہنے لگے کہ اگر خلیفہ وقت کے پاس بہت بڑی فوج ریزروموجود نہ ہوتی تو وہ بھلا اتنا بڑالشکر ملک کے باہر کس طرح بھیج سکتے تھے؟اس خیال کے آتے ہی ان جنگجو قبائل نے جنہوں نے مرتد ہوکر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تھا خوف ودہشت سے سہم کر اپنا پروگرام ختم کردیا بلکہ بہت سے پھر تائب ہوکر آغوش اسلام میں آگئے اورمدینہ منورہ مرتدین کے حملوں سے محفوظ رہا اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کالشکرمقام ''اُبنی''میں پہنچ کر رومیوں کے لشکرسے مصروف پیکار ہوگیا اور وہاں بہت ہی خوں ریزجنگ کے بعد لشکر اسلام فتح یاب ہوگیا اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے شمار مال غنیمت لے کر چالیس دن کے بعد فاتحانہ شان وشوکت کے ساتھ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے اوراب تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم انصار ومہاجرین پر اس راز کا انکشاف ہوگیا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لشکر کو روانہ کرنا عین مصلحت کے مطابق تھا کیونکہ اس لشکر نے ایک طرف تورومیوں کی عسکری طاقت کوتہس نہس کردیا اوردوسری طرف مرتدین کے حوصلوں کو بھی پست کردیا۔ (1)
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب یا زدھم و قصۃ مرض و وفات آنحضرت صلی اللہ

علیہ وسلم ، ج۲، ص۴۰۹ ، ۴۱۰ ملخصاً
Flag Counter