اس انتشار کے دور میں امیر المؤمنین ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تخت خلافت پر قدم رکھتے ہی سب سے پہلے یہ حکم فرمایا کہ ''جیش اسامہ ''یعنی اسلام کا وہ لشکر جس کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیر قیادت روانہ فرمایا اوروہ واپس آگیا ہے دوبارہ اس کو جہاد کے لیے روانہ کیا جائے ۔ حضرات صحابہ کرام بارگاہ خلافت کے اس اعلان سے انتہائی متوحش ہوگئے اورکسی طرح بھی یہ معاملہ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایسی خطرناک صورتحال میں جبکہ بہت سے قبائل اسلام سے منحرف ہوکر مدینہ منورہ پر حملوں کی تیاریاں کر رہے ہیں اور جھوٹے مدعیان نبوت نے جزیرۃ العرب میں لوٹ ماراوربغاوت کی آگ بھڑکا رکھی ہے۔ اتنی بڑی اسلامی فوج کا جس میں بڑے بڑے نامور اورجنگ آزما صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم موجود ہیں ملک سے باہر بھیج دینا اورمدینہ منورہ کو بالکل عساکر اسلامیہ سے خالی چھوڑکر خطرات مول لینا کسی طرح بھی عقل سلیم کے نزدیک قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک منتخب جماعت جس کے ایک فرد حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں ، بارگاہ خلافت میں حاضر ہوئی اورعرض کیا کہ اے جانشین پیغمبر!ایسے مخدوش اورپر خطر ماحول میں جبکہ مدینہ منورہ کے چاروں طرف مرتدین نے شورش پھیلا رکھی ہے یہاں تک کہ مدینہ منورہ پر حملہ کے خطرات درپیش ہیں ۔ آپ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لشکر کو روانگی سے روک دیں تاکہ اس فوج کی مدد سے مرتدین کا مقابلہ کیا جائے اوران کا قلع قمع کردیا جائے ۔
یہ سن کر آپ نے جوش غضب میں تڑپ کر فرمایا کہ خدا کی قسم ! مجھے پرندے اچک لے جائیں یہ مجھے گوارا ہے لیکن میں اس فوج کو روانگی سے روک دوں جس کو اپنے دست مبارک سے جھنڈا باندھ کر حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے روانہ فرمایا تھا یہ