Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
66 - 342
    یہ امیرالمؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک عظیم کرامت ہے کہ مستقبل میں پیش آنے والے واقعات آپ پر قبل از وقت منکشف ہوگئے اورآپ نے اس فوج کشی کے مبارک اقدام کو اس وقت اپنی نگاہ کرامت سے نتیجہ خیز دیکھ لیا تھا جبکہ وہاں تک دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا وہم وگمان بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔
         (تاریخ الخلفاء ، ص۵۱ومدارج النبوۃ ،ج۲،ص۴۰۹تا۴۱۱وغیرہ)
مدفن کے بارے میں غیبی آواز
    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعدصحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں اختلاف پیدا ہوگیا کہ آپ کو کہاں دفن کیاجائے ؟بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو شہدائے کرام کے قبرستان میں دفن کرناچاہیے اوربعض حضرات چاہتے تھے کہ آپ کی قبر شریف جنت البقیع میں بنائی جائے، لیکن میری دلی خواہش یہی تھی کہ آپ میرے اسی حجرہ میں سپردخاک کئے جائیں جس میں حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی قبرمنور ہے یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ اچانک مجھ پر نیند کا غلبہ ہوگیا اورخواب میں یہ آوازمیں نے سنی کہ کوئی کہنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ
ضُمُّوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْب
 (یعنی حبیب کو حبیب سے ملادو) خواب سے بیدارہوکر میں نے لوگوں سے اس آوازکا ذکر کیا تو بہت سے لوگوں نے کہا کہ یہ آوازہم لوگوں نے بھی سنی ہے اورمسجد نبوی علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام کے اندربہت سے لوگوں کے کانوں میں یہ آوازآئی ہے ۔ اس کے بعد تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ آپ کی قبراطہر روضہ منورہ کے اندربنائی جائے۔ اس طرح آپ حضورانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پہلوئے اقدس میں مدفون ہوکراپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے قرب
Flag Counter