یہ عرض کرتے ہی روضہ منورہ کا بنددروازہ یک دم خود بخود کھل گیا اور تمام حاضرین نے قبر انور سے یہ غیبی آواز سنی :
اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ
(یعنی حبیب کو حبیب کے دربار میں داخل کردو)(2)(تفسیر کبیر،ج۵،ص۴۷۸)
حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنی وفات اقدس سے صرف چند دن پہلے رومیوں سے جنگ کے لئے ایک لشکر کی روانگی کا حکم فرمایا اوراپنی علالت ہی کے دوران اپنے دست مبارک سے جنگ کا جھنڈا باندھااورحضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہاتھ میں یہ نشان اسلام دے کر انہیں اس لشکر کا سپہ سالار بنایا۔ ابھی یہ لشکر مقام ''جرف ''میں خیمہ زن تھااورعساکراسلامیہ کااجتماع ہوہی رہاتھاکہ وصال کی خبر پھیل گئی اوریہ لشکرمقام ''جرف'' سے مدینہ منورہ واپس آگیا۔وصال کے بعد ہی بہت سے قبائل عرب مرتد اوراسلام سے منحرف ہوکر کافر ہوگئے نیز مسیلمۃ الکذاب نے اپنی نبوت کا دعویٰ کر کے قبائل عرب میں ارتداد کی آگ بھڑکادی اوربہت سے قبائل مرتد ہوگئے۔
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،الخلفاء الراشدون،ابوبکرالصدیق، فصل فیما ورد...الخ ، ص۸۳
2۔۔۔۔۔۔التفسیر الکبیر للرازی ، سورۃ الکھف ، تحت الایۃ : ۹-۱۲، ج۷ ، ص۴۳۳