میں جکڑ کر اس کو دربارِ خلافت میں پیش کیا۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آتے ہی اشعث بن قیس نے بآواز بلند اپنے جرمِ ارتداد کا اقرارکرلیا اور پھر فوراً ہی توبہ کرکے صدق دل سے اسلام قبول کرلیا۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوش ہوکر اس کا قصور معاف کردیا اوراپنی بہن حضرت ''ام فروہ''رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس کا نکاح کر کے اس کو اپنی قسم قسم کی عنایتوں اورنوازشوں سے سرفراز کردیا۔ تمام حاضرین دربارحیران رہ گئے کہ مرتدین کا سردارجس نے مرتد ہوکر امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بغاوت اور جنگ کی اوربہت سے مجاہدین اسلام کا خون ناحق کیا۔ ایسے خونخوارباغی اوراتنے بڑے خطرناک مجرم کو امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس قدر کیوں نوازا؟لیکن جب حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صادق الاسلام ہوکر عراق کے جہادوں میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر ایسے ایسے مجاہدانہ کارنامے انجام دیئے کہ عراق کی فتح کا سہرا انہیں کے سر رہا اورپھر حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جنگ قادسیہ اورقلعہ مدائن وجلولاء ونہاوند کی لڑائیوں میں انہوں نے سرفروشی وجانبازی کے جوحیر تناک مناظر پیش کئے انہیں دیکھ کر سب کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ واقعی امیر المؤمنین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہ کرامت نے حضر ت اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات میں چھپے ہوئے کمالات کے جن انمول جوہروں کو برسوں پہلے دیکھ لیا تھا وہ کسی اور کو نظر نہیں آئے تھے ۔ یقینا یہ امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بہت بڑی کرامت ہے ۔(1)(ازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۳۹)
اسی لئے مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ عام طور پر یہ فرمایا