Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
61 - 342
کرتے تھے کہ میرے علم میں تین ہستیاں ایسی گزری ہیں جوفراست کے بلند ترین مقام پر پہنچی ہوئی تھیں ۔

    اول :امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کہ ان کی نگاہ کرامت کی نوری فراست نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کمالات کو تاڑلیا اورآپ نے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے بعد خلافت کے ليے منتخب فرمایا جس کو تمام دنیا کے مؤرخین اور دانشوروں نے بہترین قراردیا۔

    دوم:حضر ت موسیٰ علیہ الصلو ۃ والسلام کی بیوی حضرت صفوراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے روشن مستقبل کو اپنی فراست سے بھانپ لیا اوراپنے والد حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ آپ اس جوان کو بطور اجیر کے اپنے گھر پر رکھ لیں۔ جبکہ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں فرعون کے ظلم سے بچنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اکیلے ہجرت کر کے مصر سے ''مدین''پہنچ گئے تھے۔ چنانچہ حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو اپنے گھر پر رکھ لیا اوران کی خوبیوں کو دیکھ کر اور ان کے کمالات سے متأثر ہوکر اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ان سے نکاح کردیا اوراس کے بعد خداوند قدوس نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو نبوت ورسالت کے شرف سے سرفراز فرمادیا۔

    سوم:عزیز مصر کہ انہوں نے اپنی بیوی حضرت زلیخا کو حکم دیا کہ اگرچہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے زرخرید غلام بن کر ہمارے گھر میں آئے ہیں مگر خبردار ! تم ان کے اعزازواکرام کا خاص طو رپر اہتمام وانتظام رکھنا کیونکہ عزیز مصر نے اپنی نگاہِ فراست سے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے شاندارمستقبل کو سمجھ لیا تھا کہ گویا آج غلام