| کراماتِ صحابہ |
حدیث مذکورہ بالا اورعلامہ تاج الدین سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی تقریر سے معلوم ہوا کہ مَا فِی الْاَرْحَامِ (جو کچھ ماں کے پیٹ میں ہے اس) کا علم حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل ہوگیا تھا۔ لہٰذا یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ قرآن مجید کی سورۂ لقمان میں جو
یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ (1)
آیا ہے یعنی خدا کے سواکوئی اس بات کو نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ؟اس آیت کایہ مطلب ہے کہ بغیر خدا کے بتائے ہوئے کوئی اپنی عقل وفہم سے نہیں جان سکتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ؟لیکن خداوند تعالیٰ کے بتادینے سے دوسروں کو بھی اس کا علم ہوجاتاہے ۔ چنانچہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وحی کے ذریعے اوراولیائے امت کشف وکرامت کے طور پر خداوند قدوس کے بتا دینے سے یہ جان لیتے ہیں کہ ماں کے شکم میں لڑکا ہے یا لڑکی؟مگر اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی ، ازلی وابدی اورقدیم ہے اورانبیاء علیہم الصلوۃ السلام و اولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کا علم عطائی وفانی اورحادث ہے ۔ اللہ اکبر! کہاں خداوند قدوس کا علم اورکہاں بندوں کا علم ؟ دونوں میں بے انتہا فرق ہے ۔
نگاہِ کرامت
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے بعد جو قبائل عرب مرتد ہوکر اسلام سے پھر گئے تھے ان میں قبیلہ کندہ بھی تھا۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس قبیلہ والوں سے بھی جہاد فرمایا اورمجاہدین اسلام نے اس قبیلہ کے سردار اعظم یعنی اشعث بن قیس کو گرفتار کرلیا اورلوہے کی زنجیروں
1۔۔۔۔۔۔ترجمۂ کنزالایمان:جانتاہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے۔ (پ۲۱،لقمٰن:۳۴)