مال کو قرآن مجید کے حکم کے مطابق تقسیم کر کے اپنا اپنا حصہ لے لینا۔ یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ ابا جان! میری تو ایک ہی بہن ''بی بی اسماء''ہیں۔ یہ میری دوسری بہن کون ہے ؟آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میری بیوی ''بنت خارجہ'' جو حاملہ ہے اس کے شکم میں لڑکی ہے وہ تمہاری دوسری بہن ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ لڑکی پیدا ہوئی جن کا نام ''ام کلثوم''رکھا گیا۔(1) (تاریخ الخلفاء،ص۵۷)
اس حدیث کے بارے میں حضرت علامہ تاج الدین سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے تحریر فرمایا کہ اس حدیث سے امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو کرامتیں ثابت ہوتی ہیں ۔
اول : یہ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قبل وفات یہ علم ہوگیا تھا کہ میں اسی مرض میں دنیا سے رحلت کروں گا اس لئے بوقت وصیت آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایاکہ ''میرا مال آج میرے وارثوں کا مال ہوچکا ہے ۔''
دوم:یہ کہ حاملہ کے شکم میں لڑکا ہے یا لڑکی، اورظاہرہے کہ ان دونوں باتوں کا علم یقینا غیب کا علم ہے جو بلا شبہ وبالیقین پیغمبر کے جانشین حضرت امیر المؤمنین ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو عظیم الشان کرامتیں ہیں ۔ (2)