Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
57 - 342
کہ جب ہم کھانے کے برتن میں سے لقمہ اٹھاتے تھے تو جتنا کھانا ہاتھ میں آتا تھا اس سے کہیں زیادہ کھانا برتن میں نیچے سے ابھر کر بڑھ جاتا تھا اورجب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو کھانا بجائے کم ہونے کے برتن میں پہلے سے زیادہ ہوگیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعجب ہوکر اپنی بیوی صا حبہ سے فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ برتن میں کھانا پہلے سے کچھ زائد نظر آتاہے ۔ بیوی صا حبہ نے قسم کھاکر کہا: واقعی یہ کھانا تو پہلے سے تین گنا بڑھ گیا ہے ۔ پھرآپ اس کھانے کو اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لے گئے ۔ جب صبح ہوئی تو ناگہاں مہمانوں کا ایک قافلہ درباررسالت میں اتراجس میں بارہ قبیلوں کے بارہ سردار تھے او رہر سردار کے ساتھ بہت سے دوسرے شتر سوار بھی تھے ۔ ان سب لوگوں نے یہی کھانا کھایااورقافلہ کے تمام سرداراورتمام مہمانوں کا گروہ اس کھانے کو شکم سیر کھاکر آسودہ ہوگیا لیکن پھر بھی اس برتن میں کھانا ختم نہیں ہوا۔(1)
 (بخاری شریف ج۱،ص۵۰۶مختصراً)
شکم مادر میں کیا ہے ؟
    حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مرض وفات میں اپنی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وصیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ میری پیاری بیٹی! آج تک میرے پاس جو میرا مال تھا وہ آج وارثوں کا مال ہوچکا ہے اورمیر ی اولاد میں تمہارے دونوں بھائی عبدالرحمن ومحمداورتمہاری دونوں بہنیں ہیں لہٰذا تم لوگ میرے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المنا قب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام، الحدیث: ۳۵۸۱، 

ج۲، ص۴۹۵ بالاختصار وحجۃ اللہ علی العالمین، الخا تمۃ فی اثبات کرامات 

الاولیاء ... الخ ، المطلب الثالث فی ذکر جملۃ جمیلۃ ...الخ ، ص۶۱۱
Flag Counter