Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
48 - 342
مثال میں ایک ہی شخص کی روح مختلف جسموں میں ظاہر ہوجایا کرتی ہے ۔ چنانچہ ان لوگوں نے قرآن مجید کی آیت کریمہ
فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًاسَوِیًّا﴿﴾ (1)
سے استدلال کیا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حضرت بی بی مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے سامنے ایک تندرست جوان آدمی کی صورت میں ظاہر ہوگئے تھے ۔یہ واقعہ عالم مثال میں ہوا تھا۔

    یہ کرامت بہت سے اولیاء نے دکھائی ہے، چنانچہ حضرت قضیب البان موصلی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جن کا اولیاء کے طبقہ ابدال میں شمار ہوتاہے ،کسی نے آپ پر یہ تہمت لگائی کہ آپ نماز نہیں پڑھتے ۔ یہ سنکر آپ جلا ل میں آگئے اورفوراً ہی اپنے آپ کواس کے سامنے چند صورتوں میں ظاہر کیا اور پوچھا کہ بتا تونے کس صورت میں مجھ کو ترک نماز کرتے ہوئے دیکھا۔(2)(حجۃ اللہ ج۲،ص۸۵۸)

    اسی طرح منقول ہے کہ حضرت مولانا یعقوب چرخی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جو مشائخ نقشبندیہ میں بہت ہی ممتازبزرگ ہیں۔ جب حضرت خوا جہ عبیداللہ احرار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ان کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئے تو حضرت خوا جہ مولانا یعقوب چرخی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے چہرہ اقدس پر ان کو داغ دھبے نظرآئے جس سے ان کے دل میں کچھ کراہت پیداہوئی تو اچانک آپ ان کے سامنے ایک ایسی نورانی شکل میں ظاہر ہوگئے کہ بے اختیار حضرت خوا جہ عبیداللہ احرار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا دل ان کی طرف مائل ہوگیا اوروہ فوراً ہی بیعت ہوگئے ۔(3)(رشحات العیون)
1۔۔۔۔۔۔ترجمۂ کنزالایمان: وہ اسکے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا۔ (پ۱۶،مریم:۱۷)

2۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ،المطلب الثانی فی انواع 

الکرامات،ص۶۱۰ملخصاً

3۔۔۔۔۔۔نفحات الانس(مترجم)،ص۴۲۷
Flag Counter