Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
42 - 342
لوگ اس کو تناول فرمائیں حاضرین نے کھایا تو اتنا نفیس اوراس قدر عمدہ گھی تھا کہ عمر بھر لوگوں نے اتنا عمدہ گھی نہیں کھایا۔(1)(حجۃ اللہ ج۲،ص۸۵۶)
(۵)زمین کا سمٹ جانا
    سینکڑوں ہزاروں میل کی مسافت کا چند لمحوں میں طے ہونا یہ کرامت بھی اس قدر زیادہ اللہ والوں سے منقول ہے کہ اس کی روایات حدِ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔ چنانچہ طرسوس کی جامع مسجد میں ایک ولی تشریف فرما تھے ۔ اچانک انہوں نے اپنا سر گریبان میں ڈالااورپھر چند لمحوں میں گریبان سے سرنکالاتو وہ ایک دم حرم کعبہ میں پہنچ گئے ۔(2) (حجۃ اللہ ج۲،ص۸۵۶)
(۶)نباتات سے گفتگو
    بہت سے حیوانات ونباتات اورجمادات نے اولیاء کرام سے گفتگوکی جن کی حکایات بکثرت کتابوں میں مذکور ہیں چنانچہ حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بیت المقدس کے راستہ میں ایک چھوٹے سے انار کے درخت کے سایہ میں اتر پڑے تو اس درخت نے بآوازبلند کہا کہ اے ابو اسحاق! آپ مجھے یہ شرف عطافرمائيے کہ میرا ایک پھلکھالیجئے،  اس درخت کا پھل کھٹا تھا ،مگردرخت کی تمنا پوری کرنے کیلئے آپ نے اس کا ایک پھل توڑکر کھایا، تو وہ نہایت ہی میٹھا ہوگیا ۔اورآپ کی برکت سے وہ سال میں دو بار پھلنے لگا اوروہ درخت اس قدر مشہور ہوگیا کہ لوگ اس کو
رُمَّانَۃُ الْعَابِدِیْنَ
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثانی 

فی انواع الکرامات،ص۶۰۹ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیائ...الخ، المطلب الثانی 

فی انواع الکرامات،ص۶۰۹ملخصاً
Flag Counter