شیخ علی بن ابی نصرہیتی اوربقابن بطو، یہ دونوں بزرگ حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے مزار پرانوار پر حاضر ہوئے تو ناگہاں حضر ت امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ قبر شریف سے باہرنکل آئے اورفرمایا کہ اے عبدالقادر جیلانی !رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں علم شریعت و طریقت اورعلم قال وحال میں تمہارا محتاج ہوں ۔ (2)(بہجۃ الاسرار)
(۳)دریاؤں پر تصرف
دریا کا پھٹ جانا،دریاکاخشک ہوجانا، دریا پر چلنا بہت سے اولیاء کرام سے ان کرامتوں کا ظہور ہوا،بالخصوص سید المتأخرین حضرت تقی الدین بن دقیق العید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے لئے تو ان کرامتوں کا باربار ظہورعام طور پر مشہور خلائق ہے۔(3) (حجۃ اللہ ج۲،ص۸۵۶)
(۴)انقلاب ماہیت
کسی چیز کی حقیقت کا ناگہاں بدل جانا یہ کرامت بھی اکثر اولیاء کرام سے منقول ہے۔ چنانچہ شیخ عیسیٰ ہتاریمنی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس بطورِ مذاق کے کسی بدباطن نے شراب سے بھری ہوئی دو مشکیں تحفہ میں بھیج دیں ۔آپ نے دونوں مشکوں کا منہ کھول کر ایک کی شراب کو دوسری میں انڈیل دیا۔ پھر حاضرین سے فرمایا کہ آپ
1۔۔۔۔۔۔بہجۃ الاسرا ر، ذکر کلمات اخبربھا عن نفسہ محدثا...الخ، ص۵۳ 2۔۔۔۔۔۔بہجۃ الاسرا ر، ذکر علمہ وتسمیۃ بعض...الخ، ص۲۲۶ ملخصاً 3۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ،المطلب الثانی فی انواع الکرامات،ص۶۰۹ملخصاً