بہت سے بزرگوں نے اپنی کرامت سے خطرناک درندوں کو اپنا فرمانبردار بنالیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابو سعیدبن ابی الخیرمیہنی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے شیروں کو اپنااطاعت گزار بنارکھا تھا اوردوسرے بہت سے اولیاء شیروں پر سواری فرماتے تھے جن کی حکایات مشہور ہیں۔(3)(حجۃ اللہ ،ج۲،ص۸۵۷)
یہ کرامت بہت سے بزرگوں سے منقول ہے کہ ان کی صحبت میں لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ پورادن اس قدر جلدی گزرگیا کہ گویا گھنٹہ دو گھنٹہ کا وقت گزراہے ۔ (4)
(حجۃ اللہ ج۲،ص۸۵۷)
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ،المطلب الثانی
فی انواع الکرامات،ص۶۰۹ملخصاً
2۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ،المطلب الثانی
فی انواع الکرامات،ص۶۰۹ملخصاً
3۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ،المطلب الثانی
فی انواع الکرامات،ص۶۰۹ملخصاً 4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق ،ص۶۱۰ ملخصاً