Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
39 - 342
    یہ وہ کرامت ہے کہ بہت سے اولیائے کرام سے اس کا صدور ہوچکا ہے
چنانچہ روایات صحیحہ سے ثابت ہے کہ ابوعبید بسری جو اپنے دور کے مشاہیر اولیاء میں سے ہیں ایک مرتبہ جہاد میں تشریف لے گئے۔ جب انہوں نے وطن کی طرف واپسی کا ارادہ فرمایا تو ناگہاں ان کا گھوڑا مرگیا، مگر ان کی دعا سے اچانک ان کا مراہوا گھوڑا زندہ ہوکر کھڑا ہوگیا اوروہ اس پر سوار ہوکر اپنے وطن ''بسر''پہنچ گئے اورخادم کو حکم دیا کہ اس کی زین اورلگام اتارلے ۔ خادم نے جوں ہی زین اورلگام کو گھوڑے سے جدا کیا فوراً  ہی گھوڑا مرکرگرپڑا۔ (1)

    اسی طرح حضرت شیخ مفرج جو علاقہ مصر میں ''صعید''کے باشندہ تھے ، ان کے دسترخوان پر ایک پرندہ کا بچہ بھنا ہوا رکھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ''توخدا تعالیٰ کے حکم سے اڑکر چلا جا۔''ان الفاظ کا ان کی زبان سے نکلنا تھا کہ ایک لمحہ میں وہ پرندہ کا بچہ زندہ ہوگیا اوراڑ کرچلا گیا۔(2)

    اسی طرح حضر ت شیخ اہدل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی مری ہوئی بلی کو پکاراتو وہ دوڑتی ہوئی شیخ کے سامنے حاضر ہوگئی ۔(3)

    اسی طرح حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دستر خوان پر پکی ہوئی مرغی کو تناول فرما کر اس کی ہڈیوں کو جمع فرمایا اوریہ ارشاد فرمایا کہ اے مرغی!
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین ، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء ...الخ ، المطلب الثانی 

فی انواع الکرامات ، ص۶۰۸

2۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین ، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء ...الخ ، المطلب الثانی 

فی انواع الکرامات ، ص۶۰۸ ملخصاً

3۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین ، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء ...الخ ،المطلب الثانی 

فی انواع الکرامات ، ص۶۰۸ملخصاً
Flag Counter