چنانچہ روایات صحیحہ سے ثابت ہے کہ ابوعبید بسری جو اپنے دور کے مشاہیر اولیاء میں سے ہیں ایک مرتبہ جہاد میں تشریف لے گئے۔ جب انہوں نے وطن کی طرف واپسی کا ارادہ فرمایا تو ناگہاں ان کا گھوڑا مرگیا، مگر ان کی دعا سے اچانک ان کا مراہوا گھوڑا زندہ ہوکر کھڑا ہوگیا اوروہ اس پر سوار ہوکر اپنے وطن ''بسر''پہنچ گئے اورخادم کو حکم دیا کہ اس کی زین اورلگام اتارلے ۔ خادم نے جوں ہی زین اورلگام کو گھوڑے سے جدا کیا فوراً ہی گھوڑا مرکرگرپڑا۔ (1)
اسی طرح حضرت شیخ مفرج جو علاقہ مصر میں ''صعید''کے باشندہ تھے ، ان کے دسترخوان پر ایک پرندہ کا بچہ بھنا ہوا رکھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ''توخدا تعالیٰ کے حکم سے اڑکر چلا جا۔''ان الفاظ کا ان کی زبان سے نکلنا تھا کہ ایک لمحہ میں وہ پرندہ کا بچہ زندہ ہوگیا اوراڑ کرچلا گیا۔(2)
اسی طرح حضر ت شیخ اہدل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی مری ہوئی بلی کو پکاراتو وہ دوڑتی ہوئی شیخ کے سامنے حاضر ہوگئی ۔(3)
اسی طرح حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دستر خوان پر پکی ہوئی مرغی کو تناول فرما کر اس کی ہڈیوں کو جمع فرمایا اوریہ ارشاد فرمایا کہ اے مرغی!