Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
38 - 342
معجزہ ضروری، کرامت ضروری نہیں
    معجزہ اورکرامت میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ ہرولی کے ليے کرامت کا ہونا ضروری نہیں ہے، مگرہر نبی کے لیے معجزہ کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ ولی کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اپنی ولایت کا اعلان کرے یااپنی ولایت کا ثبوت دے ، بلکہ ولی کے ليے تو یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ خود بھی جانے کہ میں ولی ہوں ۔ چنانچہ یہی و جہ ہے کہ بہت سے اولیاء اللہ ایسے بھی ہوئے کہ انکو اپنے بارے میں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ وہ ولی ہیں۔بلکہ دوسرے اولیاء کرام نے اپنے کشف وکرامت سے انکی ولایت کو جانا پہچانا اوران کے ولی ہونے کا چرچا کیا، مگر نبی کے ليے اپنی نبوت کا اثبات ضروری ہے اورچونکہ انسانوں کے سامنے نبوت کا اثبات بغیرمعجزہ دکھائے ہونہیں سکتا ، اس لیے ہر نبی کے ليے معجزہ کا ہونا ضروری اورلازمی ہے ۔
کرامت کی قسمیں
    اولیاء کرام سے صادر وظاہر ہونے والی کرامتیں کتنی اقسام کی ہیں اوران کی تعدادکتنی ہے ؟اس بارے میں علامہ تاج الدین سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیه نے اپنی کتاب ''طبقات''میں تحریر فرمایا کہ میرے خیال میں اولیاء کرام سے جتنی قسموں کی کرامتیں صادر ہوئی ہیں ان قسموں کی تعداد ایک سو سے بھی زائد ہے ۔ اس کے بعد علامہ موصوف الصدرنے قدرے تفصیل کے ساتھ کرامت کی پچیس قسموں کا بیان فرمایا ہے جن کو ہم ناظرین کی خدمت میں کچھ مزید تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔
(۱)مردوں کو زندہ کرنا
Flag Counter