Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
33 - 342
والہ وسلم کے جلال وجمال نبوت کو اپنی ایمانی نظروں سے دیکھ کر اورحبیب خدا عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے شرف صحبت سے سرفرازہوکر خوش بختی اورنیک نصیبی کے بادشاہ بلکہ شہنشاہ بن گئے اورصحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے معزز لقب سے سربلند ہوکر تمام اولیاء امت میں اسی طرح نظر آرہے ہیں جس طرح ٹمٹماتے ہوئے چراغوں کی محفل میں ہزاروں پاورکا جگمگاتاہوابجلی کا بلب یا ستاروں کی برات میں چمکتاہواچاند۔

    افسوس کہ نہ تو ہمارے واعظین کرام نے اپنی تقریروں میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی کرامتوں کو بیان کیا نہ ہمارے مشائخ عظام نے اپنے مریدوں کو اس سے آگاہ کیا ، نہ ہمارے علماء اہل سنت نے اس عنوان پر کبھی قلم اٹھانے کی زحمت گواراکی، حالانکہ رافضیوں کے مقابلہ میں زیادہ سے زیادہ اس عنوان پرلکھنے اوراس کا تذکرہ اورچرچا کرنے کی ضرورت تھی اورآج بھی ہے کیونکہ ہماری غفلتوں کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہمارے عوام جانتے ہی نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی اولیاء ہیں اوران بزرگوں سے بھی کرامتوں کا صدور وظہورہواہے۔     

    درحقیقت ایک عرصہ دراز سے میرا یہ تأثرمیرے دل کا کانٹابنا ہوا تھا چنانچہ یہی وہ جذبہ ہے جس سے متأثر ہوکرمیں اپنی کوتاہ دستی اورعلمی کم مائیگی کے باوجود فی الحال ایک سو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مقدس حالات اوران کے کمالات وکرامات کا ایک مجموعہ بصورت گلدستہ ناظرینِ کرام کی خدمت میں نذر کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔ جو''کرامات صحابہ ''رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے سیدھے سادھے نام سے موسوم ہے ؎
گرقبول افتدزہے عزوشرف
Flag Counter