| کراماتِ صحابہ |
سچ پوچھئے تو درحقیقت میری نظر میں یہ کتاب اس قابل ہی نہیں تھی کہ اس کو منظر عام پر لاؤں کیونکہ اتنے اہم عنوان پر اتنی چھوٹی سی کتاب ہرگزہرگز عظمت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے شایان شان نہیں ہے، مگر پھریہ سوچ کر کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دربار عظمت میں پھول نہ سہی تو کم سے کم پھول کی ایک پنکھڑی ہی نذر کرنے کی سعادت حاصل کرلوں، اس کتاب کو چھاپنے کی ہمت کرلی ہے ۔ پھر یہ بھی خیال آیا کہ شاید مجھ کم علم کی اس کاوش قلم کو دیکھ کر دوسرے اہل علم میدان تصنیف کی جولان گاہ میں اپنی قلم کاری کے جوہر دکھائیں تو
اَلدَّالُّ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ
(1)کی سعادت مجھے نصیب ہوجائے گی۔
میں نے اس کتاب میں حضرات خلفائے راشدین وحضرات عشرۂ مبشرہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے سوادوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ناموں اورتذکروں میں قصداً کسی خاص ترتیب کا التزام نہیں کیا ہے، بلکہ دورانِ مطالعہ جن جن صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی کرامتوں پر نظر پڑتی رہی ،ان کو نوٹ کرتا رہا۔یہاں تک میری نوٹ بک بڑھتے بڑھتے ایک کتاب بن گئی کیونکہ میرا اصل مقصود تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی کرامتوں کا تذکر ہ تھا ۔ خواہ صغار صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ذکر پہلے ہو یاکبارصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اس سے اصل مقصد میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔
تدوین کتاب کے بارے میں عزیز محترم مولانا قدرت اللہ صاحب مدرس دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف کاممنون ہوکر ان کے لیے دعا گوہوں کہ انہوں نے اس کتاب کے چند اجزاء کے مسودوں کی تبییض کر کے میرے بارِ قلم کو کچھ ہلکا کردیا۔1۔۔۔۔۔۔بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا بھلائی کرنے والے کی طرح ہے۔