Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
32 - 342
ذریعہ اورنہایت ہی بہترین طریقہ ہے ۔

    لیکن تذکرۂ کرامات کے سلسلہ میں میرے نزدیک ایک سانحہ بہت ہی حیرت ناک بلکہ اتنہائی المناک ہے کہ متأخرین اولیاء کرام بالخصوص مجذوبوں اور باباؤں کے کشف وکرامات اور خاص کر دور حاضر کے پیروں کی کرامتوں کا تو اس قدر چرچا ہے کہ ہر کوچہ وبازار بلکہ ہرمکان ودکان، ہوٹلوں اورچائے خانوں میں ، کتابوں اور رسالوں کے اوراق میں ہرجگہ اس کا ڈنکا  بج رہا ہے اورہر طرف اس کی دھوم مچی ہوئی ہے ، مگر افسوس صدہزار افسوس کہ امت مسلمہ کا وہ طبقہ علیا جو یقینا تمام امت میں ''افضل الاولیاء''ہے یعنی ''صحابہ کرام'' رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان کی ولایت وکرامت کا کہیں بھی کوئی تذکرہ اورچرچا نہ کوئی سناتا ہے نہ کہیں سننے میں آتا ہے ، نہ کتابوں اور رسالوں کے اوراق میں ملتاہے، حالانکہ ان بزرگوں کی ولایت وکرامت کا عظیم درجہ اس قدر بلند وبالاہے کہ اگر تمام دنیا کے اگلے اورپچھلے اولیاء کو ان کے نقش قدم چوم لینے کی سعادت نصیب ہوجائے تو ان کی ولایت وکرامت کو معراجِ کمال حاصل ہوجائے۔ کیونکہ درحقیقت تویہی حضرات مدارولایت وکرامت ہیں کہ ان کے نقش پاکی پیروی کے بغیر ولایت وکرامت تو کجا ؟کسی کو ایمان بھی نصیب نہیں ہوسکتا ۔ یہ لوگ بلاواسطہ آفتاب رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے نورِ معرفت حاصل کر کے آسمانِ ولایت میں ستاروں کی طرح چمکتے اورگلستانِ کرامت میں گلاب کے پھولوں کی طرح مہکتے ہیں اور تمام دنیا کے اولیا ء ان کی ولایت کے شاہی محلات کی چوکھٹ پر بھکاری بن کر نور معرفت کی بھیک مانگتے رہتے ہیں ۔

    اللہ اکبر!یہ وہ فضیلت مآب اورمقدس ہستیاں ہیں جوحضورانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ