Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
31 - 342
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تمہیدی تجلیاں
پندہا دادیم حاصل شد فراغ
ما علینا یا اخی الا البلاغ
    بزرگانِ دین کی کرامتوں کا نورانی تذکرہ یوں تو ہر دور میں ہمیشہ ہوتارہا ہے اوراس عنوان پر تقریباً ہرزبان میں کتابیں بھی لکھی جاتی رہیں مگر اس زمانے میں اس کا چرچابہت زیادہ بڑھ گیا ہے ،چنانچہ تجربہ ہے کہ اکثر واعظین کرام اپنے مواعظ کی محفلوں میں اوربیشتر پیران کبار اپنے مریدین کی مجلسوں میں بزرگان دین کے کشف وکرامات ہی کے ولولہ انگیز ذکر جمیل سے گرمیٔ مجالس کا سامان فراہم کیا کرتے ہیں اور سامعین ایک خاص جذبہ تأثرکے ساتھ سنتے اورسردھنتے رہتے ہیں اوربعض مصنفین اورمضمون نگار بھی اس عنوان پر اپنی قلم کاریوں کے جوہر دکھا کر عوام سے خراج تحسین حاصل کرتے رہتے ہیں اوراس میں ذرابھی شک نہیں کہ بزرگان دین کی کرامتوں کا تذکرہ ایک ایسا مؤثر اوردلکش مضمون ہے کہ اس سے روح کی بالیدگی ، قلب میں نور ایمان اوردل ودماغ کے گوشہ گوشہ میں ایمانی تجلیوں کا سامان پیداہوجاتاہے۔ جس سے اہل ایمان کی اسلامی رگوں میں ایک طوفانی لہراوربدن کی بوٹی بوٹی میں جوش اعمال کا ایک عرفانی جذبہ ابھرتا محسوس ہوتاہے۔اس لئے میرانظریہ ہے کہ دورحاضر میں بزرگان دین کی عبادتوں ، ریاضتوں اوران کی کرامتوں کا زیادہ سے زیادہ ذکر وتذکرہ اوران کا چرچا مسلمانوں میں جوش ایمان اورجذبۂ عمل پیدا کرنے کا بہت ہی مؤثر
Flag Counter