Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
218 - 342
تھے اور ان کے باپ مجوسیوں کی عبادت گاہ آتش خانہ کے منتظم تھے ۔ یہ بہت سے راہبوں اورعیسائی سادھوؤں کی صحبت اٹھاکر مجوسی مذہب سے بیزار ہوگئے اور اپنے وطن سے مجوسی دین چھوڑ کر دین حق کی تلاش میں گھر سے نکل پڑے اور عیسائیوں کی صحبت میں رہ کر عیسائی ہوگئے ۔ پھر ڈاکوؤں نے گرفتار کر لیااوراپنا غلام بناکر بیچ ڈالا اور یکے بعد دیگرے یہ دس آدمیوں سے زیادہ اشخاص کے غلام رہے ۔ جب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت یہ ایک یہودی کے غلام تھے جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو جناب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو خریدکرآزادفرمادیا۔

    جنگ خندق میں مدینہ منورہ شہر کے گرد خندق کھودنے کامشورہ انہوں نے ہی دیا تھا۔ یہ بہت ہی طاقتور تھے اورانصار ومہاجرین دونوں ہی ان سے محبت کرتے تھے ۔ چنانچہ انصاریوں نے کہنا شروع کیا کہ سَلْمَانُ مِنَّا یعنی سلمان ہم میں سے ہیں اور مہاجرین نے بھی یہی کہا کہ سَلْمَانُ مِنَّا یعنی سلمان ہم میں سے ہيں ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا ان پر بہت بڑا کرم عظیم تھا جب انصار ومہاجرین کا نعرہ سنا تو ارشاد فرمایا: سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلُ الْبَیْتِ(یعنی سلمان ہم میں سے ہیں )یہ فرماکران کو اپنے اہل بیت میں شامل فرمالیا۔ عقد مواخات میں حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو ابوالدرداء صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھائی بنا دیا تھا، اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ان کا شمار ہے۔ بہت عابد وزاہد اورمتقی وپرہیزگار تھے ۔ 

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا بیان ہے کہ یہ رات میں بالکل ہی اکیلے صحبت نبوی سے سرفراز ہوا کرتے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے