کہ سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے علم اول بھی سیکھا اورعلم آخر بھی سیکھا اوروہ ہم اہل بیت میں سے ہیں ۔ احادیث میں ان کے فضائل ومناقب بہت مذکورہیں۔ ابو نعیم نے فرمایا کہ ان کی عمر بہت زیادہ ہوئی ۔ بعض کا قول ہے تین سو پچاس برس کی عمرہوئی اوردوسو پچاس برس کی عمر پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے ۔ ۳۵ھ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی۔
یہ مرض الموت میں تھے تو حضرت سعد اورحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے ۔ ان حضرات نے رونے کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ہم لوگوں کو وصیت کی تھی کہ تم لوگ دنیا میں اتنا ہی سامان رکھنا جتنا کہ ایک سوار مسافر اپنے ساتھ رکھتا ہے لیکن افسوس کہ میں اس مقدس وصیت پر عمل نہیں کرسکا کیونکہ میرے پاس اس سے کچھ زائد سامان ہے ۔
بعض مؤرخین نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا سال ۱۰ رجب ۳۳ھ یا ۳۶ھ تحریر کیا ہے ۔ مزار مبارک مدائن میں ہے جو زیارت گاہ خلائق ہے ۔ (1)
(ترمذی مناقب سلمان فارسی واکمال،ص۵۹۷وحاشیہ کنزالعمال،ج۱۶، ص۳۶ واسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۸)