میں چلے گئے ۔ مجھے ان کے حال پر بڑا ترس آیا کہ گھر میں نہ ایک پیسہ ہے نہ اناج کا ایک دانہ ، بھلا یہ روزہ کس چیز سے افطارکریں گے ؟ میں نے ایک شخص سے قرض لے کر رات کا کھانا تیار کیا اورچراغ جلایا۔ پھر میں جب ان کے بستر کو درست کرنے کے لیے گئی تو کیا دیکھتی ہوں تین سو اشرفیاں بستر پر پڑی ہوئی ہیں ۔ میں نے ان کو گن کر رکھ دیا وہ نماز عشاء کے بعد جب گھرآئے اورچراغ جلتا ہوا اور بچھا ہوا دسترخوان دیکھاتو مسکرا ئے اورفرمایا کہ آج تو ماشاء اللہ میرے گھر میں اللہ عزوجل کی طرف سے خیر ہی خیر ہے ۔ پھر میں نے انہیں کھانا کھلایا اورعرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے آپ ان اشرفیوں کو یونہی لاپرواہی کے ساتھ بستر پر چھوڑ کر چلے گئے اور مجھ سے کہہ کر بھی نہیں گئے کہ میں ان کو اٹھا لیتی آپ نے حیران ہوکر پوچھا کہ کیسی اشرفیاں؟میں تو گھر میں ایک پیسہ بھی چھوڑ کر نہیں گیا تھا۔ یہ سن کر میں نے ان کا بستراٹھاکر جب انہیں دکھایا کہ یہ دیکھ لیجئے اشرفیاں پڑی ہوئی ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے لیکن انہیں بھی اس پر بڑا تعجب ہوا۔ پھر سوچ کر کہنے لگے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری امدادغیبی ہے میں اس کے بارے میں اس کے سوا اورکیا کہہ سکتاہوں۔ (1)
(حلیۃ الاولیاء،ج۱۰،ص۱۲۹ وشواہد النبوۃ،ص۲۱۸)