Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
214 - 342
    اس کے بعد گاؤں کے کچھ خیر پسند اورسلجھے ہوئے لوگوں نے گاؤں والوں کو ملامت کی کہ اپنے ہی قبیلہ کا ایک معزز آدمی گاؤں میں آیا اورتم لوگوں نے اس کے ساتھ شرمناک قسم کی بدسلوکی کرڈالی جو ہمارے قبیلہ والوں کی پیشانی پر ہمیشہ کے لیے کلنک کا ٹیکہ بن جائے گی ۔ یہ سن کر گاؤں والوں کو ندامت ہوئی اوروہ لوگ کھانا پانی وغیرہ لے کر میدان میں ان کے پا س پہنچے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے تمہارے کھانے پانی کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے مجھ کوتو میرے رب نے کھلا پلاکر سیراب کردیاہے اور پھر اپنے خوا ب کا قصہ بیان کیا۔ گاؤں والوں نے جب یہ دیکھ لیا کہ واقعی یہ کھا پی کر سیراب ہوچکے ہیں اوران کے چہرے پر بھوک وپیاس کا کوئی اثر ونشان نہیں حالانکہ اس سنسان جنگل اور بیابان میں کھانا پانی کہیں سے ملنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو گاؤں والے آپ کی اس کرامت سے بے حد متأثر ہوئے یہاں تک کہ پوری بستی کے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ (1)

(حجۃ اللہ ، ج۲،ص۸۷۳بحوالہ بیہقی وکنزالعمال،ج۱۶،ص۲۲۲ومستدرک حاکم ، ج۳،ص۶۴۲)
امدادغیبی کی اشرفیاں
    حضرت ابو امامہ باہلی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باندی کا بیان ہے کہ یہ بہت ہی سخی اورفیاض آدمی تھے ۔ کسی سائل کو بھی اپنے دروازے سے نامراد نہیں لوٹاتے تھے ۔ ایک دن ان کے پاس صرف تین ہی اشرفیاں تھیں اور یہ اس دن روزہ سے تھے اتفاق سے اس دن تین سائل دروازہ پر آئے اورآپ نے تینوں کو ایک ایک اشرفی دے دی ۔ پھر سورہے ۔ باندی کہتی ہیں کہ میں نے نماز کے لیے انہیں بیدارکیا اوروہ وضو کر کے مسجد
1۔۔۔۔۔۔دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ماجاء فی ما ظھر علی ابی امامۃ...الخ، ج۶، ص۱۲۶

وکنزالعمال،کتاب الفضائل، فضائل الصحابۃ، الحدیث:۳۷۵۶۲،ج۷،الجزء۱۳،ص۲۶۲
Flag Counter