Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
213 - 342
سے پہلے صلح حدیبیہ میں شریک ہوکر بیعۃ الرضوان کے شرف سے سرفراز ہوئے ۔ دو سو پچاس حدیثیں ان سے مروی ہیں اورحدیثوں کے درس واشاعت میں ان کو بے حد شغف تھا ، پہلے مصر میں رہتے تھے پھر حمص چلے گئے اوروہیں  ۸۶ھ ؁میں اکانوے برس کی عمر میں وفات پائی۔ بعض مؤرخین نے ان کا سال وفات   ۸۱ھ ؁تحریر کیا ہے ۔ یہ اپنی داڑھی میں زردرنگ کاخضاب کرتے تھے ۔(1)

                (اکمال ،ص۵۸۶واسدالغابہ،ج۳،ص۱۶)
کرامات 

فرشتہ نے دودھ پلایا
    ان کی ایک کرامت یہ ہے کہ جس کو وہ خود بیان فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو بھیجا کہ تم اپنی قوم میں جاکر اسلام کی تبلیغ کرو چنانچہ حکم نبوی کی تعمیل کرتے ہوئے یہ اپنے قبیلہ میں پہنچے اور اسلام کا پیغام پہنچایا مگر ان کی قوم نے ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا، کھانا کھلانا تو بڑی بات ہے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا بلکہ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے اوربرابھلا کہتے ہوئے ان کو بستی سے باہر نکال دیا۔ یہ بھوک پیاس سے انتہائی بے تاب اورنڈھال ہوچکے تھے لاچار ہوکر کھلے میدان ہی میں ایک جگہ سوگئے تو خواب میں دیکھا کہ ایک آنے والا (فرشتہ)آیا اور ان کو دودھ سے بھرا ہوا ایک برتن دیا۔ یہ اس دودھ کو پی کر خوب جی بھر کر سیراب ہوگئے ۔ خدا کی شان دیکھئے کہ جب نیند سے بیدار ہوئے تو نہ بھوک تھی نہ پیاس۔
11۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ، صدی بن عجلان، ج۳، ص۱۶۔۱۷

والاکمال فی اسماء الرجال، حرف الہمزۃ، فصل فی الصحابۃ، ص۵۸۶

والاعلام للزرکلی، صدی بن عجلان،ج۳، ص۲۰۳
Flag Counter