| کراماتِ صحابہ |
آپ کا اصلی نام ہی بھول گئے ، لوگ ان کا اصلی نام پوچھتے تو یہ فرماتے تھے کہ میں نہیں بتاؤں گا ۔ میرا نام رسول اللہ عزو جل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ''سفینہ''رکھ دیا ہے اب میں اس نام کو کبھی ہرگز ہرگز نہیں بدلوں گا۔(1)(اکمال ،ص۵۹۷واسدالغابہ،ج۲،ص۳۲۴)
کرامت شیر نے راستہ بتایا
ان کی مشہور اورنہایت ہی مستند کرامت یہ ہے کہ یہ روم کی سرزمین میں جہاد کے دوران اسلامی لشکر سے بچھڑگئے اورلشکر کی تلاش میں دوڑتے بھاگتے چلے جارہے تھے کہ بالکل ہی اچانک جنگل سے ایک شیر نکل کر ان کے سامنے آگیا انہوں نے ڈانٹ کر بلند آواز سے فرمایا کہ اے شیر!میں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا غلام ہوں اورمیرا معاملہ یہ ہے کہ میں لشکر اسلام سے الگ پڑگیا ہوں اورلشکرکی تلاش میں ہوں ۔ یہ سن کر شیر دم ہلا تا ہوا ان کے پہلو میں آکر کھڑا ہوگیا اور برابر ان کو اپنے ساتھ میں لئے ہوئے چلتا رہا یہاں تک کہ یہ لشکر اسلام میں پہنچ گئے تو شیر واپس چلا گیا۔ (2)
(مشکوٰۃ ،ج۲،ص۵۵۴،باب الکرامات)(۳۷)حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ان کا نام صدی بن عجلان ہے مگر یہ اپنی کنیت ہی کے ساتھ مشہور ہيں ۔ بنو باہلہ کے خاندان سے ہیں اس لئے باہلی کہلاتے ہیں ۔ مسلمان ہونے کے بعد سب
۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال، حرف السین، فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۷ واسد الغابۃ، سفینۃ رضی اللہ عنہ، ج۲، ص۴۸۱ 2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح ،کتاب الفضائل والشمائل، باب الکرامات، الحدیث:۵۹۴۹، ج۲، ص۴۰۰