یہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے آزادکردہ غلام ہیں اور بعض کا قول ہے کہ یہ حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے غلام تھے انہوں نے اس شرط پر ان کو آزاد کیا تھا کہ عمر بھر رسول اللہ عز وجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت کرتے رہیں گے۔''سفینہ''ان کالقب ہے ۔ ان کے نام میں اختلاف ہے کسی نے ''رباح''کسی نے ''مہران ''کسی نے ''رومان ''نام بتایاہے۔''سفینہ ''عربی میں کشتی کو کہتے ہیں ۔ ان کا لقب ''سفینہ''ہونے کا سبب یہ ہے کہ دوران سفر ایک شخص تھک گیا تو اس نے اپنا سامان ان کے کندھوں پر ڈال دیااور یہ پہلے ہی بہت زیادہ سامان اٹھائے ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے خوش طبعی اورمزاح کے طور پر یہ فرمایاکہ اَنْتَ سَفِیْنَۃٌ (تم تو کشتی ہو) اس دن سے آپ کا یہ لقب اتنا مشہور ہوگیا کہ لوگ
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث
فی ذکر جملۃ جمیلۃ...الخ، ص۶۲۱
والطبقات الکبری لابن سعد، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، ج۴، ص۲۱۶
واسد الغابۃ، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ،ج۴، ص۲۹۹