Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
208 - 342
لحن داؤدی
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز اورلہجہ میں اتنی زبردست کشش تھی کہ اس کو کرامت کے سوااورکچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ حضرت امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتے توفرماتے :
ذَکِّرْنَا رَبَّنَا یَا اَبَا مُوْسٰی
 (اے ابو موسیٰ! ہم کو اپنے رب کی یاد دلاؤ) یہ سن کر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن شریف پڑھنے لگتے ان کی قرأت سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلب میں ایسی نوری تجلی پیدا ہوجاتی کہ انہیں دنیا سے دوری اوراپنے رب کی حضور ی نصیب ہوجاتی تھی ۔ (1)

    حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت سنی توارشادفرمایا کہ حضرت داودعلیہ الصلوۃو السلام کی سی خوش الحانی اس شخص کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطاکی گئی ہے۔(2)

             (کنزالعمال،ج۱۶،ص۲۱۸،مطبوعہ حیدرآباد)
 (۳۴)حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    حضرت تمیم بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے نصرانی تھے پھر   ۹ھ؁ میں مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ بہت ہی عبادت گزار تھے ۔ ایک ہی رکعت میں قرآن مجید پڑھا کرتے تھے اورکبھی کبھی ایک ہی آیت کو رات بھر صبح تک نماز میں بار بار پڑھتے رہتے ۔ حضرت محمد بن المنکدرکا بیان ہے کہ ایک رات سوتے رہ گئے اورنماز تہجد کے لیے نہیں اٹھ سکے تو انہوں نے اپنی اس کوتاہی کا کفارہ اس طرح ادا کیا کہ مکمل ایک سال تک رات
1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الفضائل،فضائل الصحابۃ،الحدیث:۳۷۵۴۷،ج۷،الجزء ۱۳،ص۲۶۰

2۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الفضائل،فضائل الصحابۃ،الحدیث:۳۷۵۵۰،ج۷،الجزء ۱۳،ص۲۶۰
Flag Counter