Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
207 - 342
مہاجرین حبشہ کے ساتھ آپ بھی تشریف لائے او رخیبرمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے   ۲۰ ھ ؁میں ان کو بصرہ کا گورنر مقرر فرمایا اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت تک یہ بصرہ کے گورنر رہے جب حضرت علی اور حضر ت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی جنگ شروع ہوئی تو پہلے آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرفدارتھے مگر اس جھگڑے سے منقبض ہوکر مکہ مکرمہ چلے گئے یہاں تک کہ ۵۲ ھ ؁میں آپ کی وفات ہوگئی ۔(1)(اکمال ،ص۶۱۸)
کرامات

غیبی آواز سنتے تھے
    آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ ایک خاص کرامت تھی کہ غیبی آوازیں آپ کے کان میں آیا کرتی تھیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمندری جہاد میں امیر لشکر بن کر گئے۔ رات میں سب مجاہدین کشتیوں پر سوار ہوکر سفر کر رہے تھے کہ بالکل ناگہاں اوپر سے ایک پکارنے والے کی آواز آئی : 

    ''کیا میں تم لوگوں کو خداتعالیٰ کے اس فیصلہ کی خبر دے دوں جس کا وہ اپنی ذات پر فیصلہ فرما چکاہے ؟یہ وہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے گرمی کے دنوں میں پیاسا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ پیاس کے دن (قیامت میں) ضرورضروراس کو سیراب فرمادے گا۔''(2)(حجۃ اللہ ،ج۲،ص۸۷۲بحوالہ حاکم)
1۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال، حرف المیم، فصل فی الصحابۃ، ص۶۱۸

2۔۔۔۔۔۔المستدرک علی الصحیحین،کتاب معرفۃ الصحابۃ علیھم الرضوان ، باب جزاء من یعطش للہ فی یوم صائف، الحدیث:۶۰۲۲، ج۴، ص۵۸۶
Flag Counter