Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
209 - 342
بھر نہیں سوئے۔ پہلے مدینہ منورہ میں رہتے تھے پھر امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد ملک شام میں چلے گئے اوراخیر عمر تک ملک شام ہی میں رہے۔ مسجد نبوی علی صاحبہا الصلوۃوالسلام میں سب سے پہلے انہوں نے قندیل جلائی اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دجال کے جساسہ کا واقعہ ان سے سن کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو سنایا۔(1)(اکمال ،ص۵۸۸واسدالغابہ، ج۱،ص۲۱۵)
کرامت

چادر دکھا کر آگ بجھا دی
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامتوں میں سے ایک مشہور اور مستند کرامت یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں جب پہاڑ کے ایک غار سے ایک قدرتی آگ نمودار ہوئی تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو اپنی چادر عطافرمائی، یہ چادر لے کر جب آگ کے قریب پہنچے تو  آگ بجھتی ہوئی پیچھے کو ہٹتی چلی گئی یہاں تک کہ آگ غار کے اندر داخل ہوگئی اوریہ خود بھی آگ کو چادر سے دفع کرتے ہوئے غار میں گھستے چلے گئے جب یہ آگ کو بجھاکرحضرت امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اے تمیم داری ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی دن کے لئے ہم نے تم کو چھپارکھا تھا ۔(2)(حجۃ اللہ ،ج۲،ص۸۷۳بحوالہ ابو نعیم)

(اس آگ کا مفصل حال ہم نے اپنی کتاب ''روحانی حکایات''ج۲اور''سیرۃ المصطفیٰ'' میں تحریر کیا ہے)
1۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ، تمیم بن اوس رضی اللہ عنہ، ج۱، ص۳۱۹

والاکمال فی اسماء الرجال، حرف التاء، فصل فی الصحابۃ، ص۵۸۸

2۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث 

فی ذکرجملۃ جمیلۃ...الخ، ص۶۲۱
Flag Counter