Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
206 - 342
لشکر کا امیر بنا کر جہاد کے ليے بھیجا میں بھی اس لشکر میں شامل تھا ہم لوگوں نے مقام ''کدید''میں قبیلہ بنی الملوح پر حملہ کیا اور ان کے اونٹوں کو مال غنیمت بنا کر واپس آنے لگے ابھی ہم لوگ کچھ دور ہی چلے تھے کہ بنو الملوح کے تمام قبائل کا ایک بہت بڑا لشکر جمع ہوکر ہمارے تعاقب میں آگیاہم لوگ ایک نالے کے پارآگئے جو بالکل ہی خشک تھا اورہم لوگوں کو بالکل ہی یقین ہوگیا کہ اب ہم لوگ ان کافروں کے ہاتھوں میں گرفتار ہوجائیں گے مگر کفار جب نالہ کے پاس آئے تو باوجود یکہ نہ بارش ہوئی نہ بدلی کسی طرف سے نظر آئی اچانک نالہ پانی سے بھر گیا اوراس زور وشور سے پانی کا بہاؤ تھا کہ اس کو پار کرنا انتہائی دشوار تھاچنانچہ کفار کا لشکر نالہ کے پاس ٹھہر گیا اورایک کافر بھی نالہ کو پارنہ کرسکا اورہم لوگ نہایت ہی اطمینان اورسلامتی کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔(1)

(حجۃ اللہ ،ج۲،ص۸۷۲بحوالہ ابن سعد)
تبصرہ
    ہم کرامت کی قسموں کے بیان میں لکھ چکے ہیں کہ بالکل ناگہاں اور اچانک غیب سے کسی چیز کا بطورامداد کے ظاہرہوجانا یہ بھی کرامت کی ایک قسم ہے ۔ خشک نالہ میں اچانک پانی بھر جانا یہ حضرت غالب بن عبداللہ لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسی قسم کی کرامت ہے، ان کی اسی کرامت کی بدولت تمام صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی جان بچ گئی۔
 (۳۳)حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن کے باشندہ تھے مکہ مکرمہ میں آکر اسلام قبول کیا۔ پہلے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے پھر حبشہ سے کشتیوں پر سوار ہوکر تمام
1۔۔۔۔۔۔الطبقات الکبری لابن سعد، سریۃ غالب بن عبداللہ اللیثی...الخ، ج۲، ص۹۵
Flag Counter