Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
205 - 342
اقدس شہنشاہ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ہمرکاب تھے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو مکہ مکرمہ کے راستوں کی درستی اورکفار کے حالات کی جاسوسی کے کام پر مامور فرمایا۔ پھر فتح مکہ کے بعد ساٹھ سواروں کا افسربنا کر آپ نے ان کو مقام کدیدمیں بنی الملوح سے جنگ کے لیے بھیج دیا۔

    ابن الکلبی کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو بنی مرہ سے لڑنے کیلئے ''فدک ''بھیجا، وہیں یہ شہادت سے سرفراز ہوگئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (1) (اسدالغابہ،ج۴،ص۱۶۸)

    ایک روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی یہ جہادوں میں شریک ہوتے رہے ہیں ۔ خاص طورپر جنگ قادسیہ میں خوب خوب کفار سے لڑے ۔ مشہور ہے کہ ہر مز انہی کے ہاتھ سے مارا گیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت کے دوران زیادنے ان کو خراسان کا حاکم بنادیا تھا۔(2) (اصابہ ،ج۵،ص۱۸۷)

    ان کی یہ ایک کرامت بہت مشہور اورنہایت ہی مستند ہے ۔
کرامت 

خشک نالہ میں ناگہاں سیلاب
    حضرت جندب بن مکیث جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول خدا عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت غالب بن عبداللہ لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک چھوٹے سے
1۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ، غالب بن عبداللہ الکنانی اللیثی، ج۴، ص۳۵۷ ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف الغین المعجمۃ، ج۵، ص۲۴۳
Flag Counter