| کراماتِ صحابہ |
جنگ بیر معونہ میں ستر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے صرف عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ بچے باقی سب جام شہادت سے سیراب ہوگئے ۔ ان ہی شہداء کرام میں سے حضرت عامربن فہیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں ۔ کفار کے سردار عامر بن طفیل کا بیان ہے کہ حضرت عامر بن فہیرہ جب شہید ہوگئے تو ایک دم ان کی لاش زمین سے بلند ہوکر آسمان تک پہنچی پھر تھوڑی دیر کے بعد آہستہ آہستہ وہ زمین پر اترآئی اور اس کے بعد ان کی لاش تلاش کرنے پر نہیں ملی کیونکہ فرشتوں نے انہیں دفن کردیا۔ (1)
(بخاری، ج۲،ص۵۸۷)تبصرہ
جس طرح حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرشتوں نے غسل دیا تو ان کا لقب ''غسیل الملائکہ '' ہوا۔اسی طرح چونکہ ان کو فرشتوں نے قبرمیں دفن کیا تھا اس لئے یہ ''دفین الملائکہ''(فرشتوں کے دفن کردہ )ہیں ۔واللہ تعالیٰ اعلم
(۳۲)حضرت غالب بن عبداللہ لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت غالب بن عبداللہ بن مسعربن جعفربن کلب لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ان کا وطن مکہ معظمہ ہے اوریہ فتح مکہ سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے تھے ۔ فتح مکہ میں یہ حضور
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الرجیع ورعل...الخ،الحدیث:۴۰۹۳، ج۳،ص۴۹ واسد الغابۃ، عامر بن فھیرۃ رضی اللہ عنہ، ج۳، ص۱۳۴