Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
203 - 342
قبیلۂ خزرج والوں کو بھی یہ فخر حاصل ہے کہ حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی موجودگی میں ہمارے قبیلہ کے چارآدمی حافظ قرآ ن وقاری ہوئے اورتمہارے قبیلہ میں اس وقت تک کوئی بھی پورا حافظ قرآن نہیں ہوا۔ دیکھ لو حضرت زید بن ثابت ، حضرت ابو زید وحضرت ابی بن کعب وحضرت معاذ بن جبل (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) یہ چاروں حفاظ ہمارے قبیلۂ خزر ج کے سپوت ہیں ۔(1)(اسدالغابہ،ج۲،ص۶۸)
 (۳۱) حضرت عامربن فہیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    یہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزادکردہ غلام ہیں ۔ یہ ابتدائے اسلام ہی میں مسلمان ہوگئے تھے پھرکفار مکہ نے ان کو بہت زیادہ ستایا تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو خرید کر آزاد کردیا۔ واقعہ ہجرت کے وقت جبکہ حضورانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اپنے یارِ غار صدیق جاں نثار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ غار ثور میں تشریف فرما ہوئے تو یہی حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دن بھر بکریوں کو چرا کر غار کے پاس رات کو لاتے اوران بکریوں کا دودھ دوہ کر دونوں عالم کے تاجدار اور ان کے یار غار کو پلاتے جب غارثور سے حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے تو ایک اونٹنی پر شہنشاہ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اورایک اونٹنی پر حضرت ابوبکرصدیق اورحضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیٹھے ۔ صفر   ۴ھ ؁ واقعہ ''بیرمعونہ''میں آپ کو شہادت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ (2)(اسدالغابہ،ج۳،ص۹۱) 

    (پوری تفصیل کیلئے پڑھئے ہماری کتاب ''سیرۃالمصطفیٰ'' صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)
1۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ، حنظلۃ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ، ج۲، ص۸۵

2۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ، عامر بن فھیرۃ رضی اللہ عنہ، ج۳، ص۱۳۳
Flag Counter