Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
202 - 342
سوئے تھے اورغسل کی حاجت ہوگئی تھی مگر وہ رات کے آخری حصہ میں دعوت جنگ کی پکار سن کر اس خیال سے بلا غسل میدان جنگ کی طرف دوڑپڑے کہ شاید غسل کرنے میں اللہ کے رسول کی پکار پر دوڑنے میں دیر لگ جائے ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ فرشتوں نے شہادت کے بعد ان کوغسل دیا،ورنہ شہید کو غسل دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اسی واقعہ کی بناء پر حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غسیل الملائکہ (فرشتوں کے نہلائے ہوئے )کہا جاتاہے ۔(1)

                (مدارج النبوۃ،ج۲ومشکوۃ شریف وغیرہ)
تبصرہ
    فرشتوں نے حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہادت کے بعد غسل دیا۔ یہ آپ کی بہت بڑی کرامت اورنہایت ہی عظیم الشان فضیلت ہے ۔ چنانچہ آپ کے قبیلہ والوں کو اس پر بہت بڑا فخر اورناز تھا کہ حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے قبیلہ کے ایک عدیم المثال فرد ہیں کہ جن کو فرشتوں نے نہلایا ۔ اس تفاخر کے سلسلے میں منقول ہے کہ قبیلہ اوس کے لوگوں نے قبیلہ خزرج والوں سے کہا کہ دیکھ لو حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غسیل الملائکہ ہمارے قبیلۂ اوس کے ہیں اور حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہد کی مکھیوں نے جن کی لاش پر پہرہ دیا تھاوہ بھی ہمارے قبیلہ اوس کے ہیں اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کی وفات پر عرش الٰہی ہل گیا وہ بھی ہمارے قبیلہ اوس کے ہیں اور حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کی اکیلے کی گواہی دو گواہوں کے برابر ہے وہ بھی ہمارے قبیلہ اوس ہی کے ہیں ۔ یہ سن کر قبیلہ خزرج کے لوگوں نے کہا کہ ہمارے
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم دوم، باب سوم، ج۲،ص۱۲۳،۱۲۴
Flag Counter