تھا اورکفار کی طرف سے لڑرہا تھا مگر اس کے بیٹے حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرچم اسلام کے نیچے نہایت ہی جواں مردی اورجوش و خروش کے ساتھ کفار سے لڑ رہے تھے۔ابو عامر راہب جب تلوارگھماتا ہوا میدان میں نکلا تو حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنی تلوار سے اپنے باپ ابو عامر کاسرکاٹ کر لاؤں مگر حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی رحمت نے یہ گوارا نہیں کیا کہ بیٹے کی تلوار باپ کا سر کاٹے اس لئے آپ نے اجازت نہیں دی مگر حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جوش جہاد میں اس قدر آپے سے باہر ہوگئے تھے کہ سر ہتھیلی پر رکھ کر انتہائی جانبازی کے ساتھ لڑتے ہوئے قلب لشکر تک پہنچ گئے اورکفار کے سپہ سالار ابو سفیان پر حملہ کردیااور قریب تھا کہ حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلوار ابو سفیان کا فیصلہ کردے مگر اچانک پیچھے سے شداد بن الاسود نے جھپٹ کر وار کو روکا اور حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کردیا۔ (1)
(اسدالغابہ،ج۲،ص۶۷ومدارج النبوۃ،ص۱۲۳)