Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
200 - 342
دیکھ لیجئے کہ حضرت ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیلئے دربارنبوت سے قصاص کا فیصلہ ہو چکا تھا اورمدعی نے قصاص ہی کا مطالبہ کیا تھا لیکن جب حضر ت انس بن النضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قسم کھا گئے کہ خدا کی قسم !میری بہن کا دانت نہیں توڑا جائے گاتو خدا تعالیٰ نے ایساہی سبب پیدا کردیا۔تو ظاہر ہے کہ اگر فیصلہ کے مطابق دانت توڑدیا جاتاتو ان کی قسم ٹوٹ جاتی مگر خدا تعالیٰ کا فضل وکرم ہوگیا کہ مدعی کا دل بدل گیا اوراس نے بجائے قصاص کے دیت کا مطالبہ کردیا اس طرح دانت ٹوٹنے سے بچ گیا اور ان کی قسم پوری ہوگئی۔

    اس کی بہت سی مثالیں اورثبوت حاصل ہوں گے کہ اللہ والے جس بات کی قسم کھاگئے اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو موجود فرمادیا اگرچہ وہ چیز ایسی تھی کہ بظاہر اس کے ہونے کی کوئی بھی صورت نہیں تھی ۔
 (۳۰)حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    یہ مدینہ منورہ کے باشندہ ہیں اورانصار کے قبیلہ اوس سے انکا خاندانی تعلق ہے ۔ ان کا باپ ابو عامر اپنے قبیلہ کا سردار تھا اورزمانہ جاہلیت میں اس کی عبادت کی کثرت کو دیکھ کرعام طور پر لوگ اس کو ابو عامر راہب کہا کرتے تھے ۔جب حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اورپورا مدینہ اور اطراف حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے قدموں پر قربان ہونے لگا تو مدینہ کے دو شخصوں پر حسد کا بھوت سوارہوگیا۔ ایک عبداللہ بن ابی ، دوسرے ابو عامر راہب ۔لیکن عبداللہ بن ابی نے تو اپنی دشمنی کو چھپائے رکھا اورمنافق بن کر مدینہ ہی میں رہا لیکن ابو عامر راہب حسد کی آگ میں جل بھن کر مدینہ سے مکہ چلا گیا اورکفار مکہ کو بھڑکا کرمدینہ منورہ پر حملہ کے لیے تیار کیا چنانچہ   ۳ھ ؁میں جب جنگ احد ہوئی تو ابو عامر کفار کے لشکر میں شامل
Flag Counter