Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
199 - 342
     جب حضرت انس ابن النضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ چلا تو وہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور یہ کہا:یارسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم خدا تعالیٰ کی قسم! میری بہن کادانت نہیں توڑا جائے گا ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایاکہ اے انس بن النضر! تم کیا کہہ رہے ہو؟قصاص تو اللہ تعالیٰ کی کتاب کا فیصلہ ہے ۔ یہ گفتگوابھی ہورہی تھی کہ لڑکی والے دربارنبوت میں حاضر ہوئے اورکہنے لگے کہ یا رسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم قصاص میں ربیع کا دانت توڑنے کے بدلے میں ہم لوگوں کو دیت (مالی معاوضہ) دلادیاجائے ۔ اس طرح انس بن النضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قسم پوری ہوگئی اور ان کی بہن حضرت ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا دانت توڑے جانے سے بچ گیا۔

    حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اس موقع پر یہ ارشادفرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر وہ کسی معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کوپوری فرمادیتاہے ۔ (1)

(بخاری شریف ، ج۲،ص۶۶۴،باب قولہ والجروح قصاص)
تبصرہ
    حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ارشاد گرامی کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ ایسے مقبولان بارگاہ الٰہی ہیں کہ اگر کسی ایسی چیز کے بارے میں جو بظاہر ہونے والی نہ ہو ، اللہ تعالیٰ کے یہ بندے اگر قسم کھالیں کہ ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ ان مقدس بندوں کی قسموں کو ٹوٹنے نہیں دیتابلکہ اس نہ ہونے والی چیز کو موجود فرمادیتاہے تاکہ ان مقدس بندوں کی قسم پوری ہوجائے ۔
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب التفسیر،باب والجروح قصاص،الحدیث:۴۶۱۱،ج۳،ص۲۱۵
Flag Counter