آپ کا باغبان آیا اور شدید قحط اورخشک سالی کی شکایت کرنے لگا۔ آپ نے وضو فرمایا اورنماز پڑھی پھرفرمایاکہ اے باغبان ! آسمان کی طرف دیکھ!کیا تجھے کچھ نظر آرہا ہے؟ باغبان نے عرض کیا کہ حضور ! میں تو آسمان میں کچھ بھی نہیں دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے نماز پڑھ کر یہی سوال فرمایا اورباغبان نے یہی جواب دیا۔ پھر تیسری بار یا چوتھی بار نماز پڑھ کر آپ نے باغبان سے پوچھا کہ کیا آسما ن میں کچھ نظر آرہا ہے ۔ اب کی مرتبہ باغبان نے جواب دیا کہ جی ہاں! ایک پرند کے پرکے برابر بدلی کا ٹکڑا نظر آرہا ہے ۔ پھر آپ برابر نماز اور دعا میں مشغول رہے یہاں تک کہ آسمان میں ہر طرف ابر چھا گیا اورنہایت ہی زور دار بارش ہوئی ۔ پھر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باغبان کو حکم دیا کہ تم گھوڑے پر سوار ہوکر دیکھو کہ یہ بارش کہاں تک پہنچی ہے ؟اس نے چاروں طرف گھوڑا دوڑا کر دیکھا اور آکر کہا کہ یہ بارش ''مسیرین ''اور ''غضبان ''کے محلوں سے آگے نہیں بڑھی۔ (2)(طبقات ابن سعد،ج۷،ص۲۱)