Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
196 - 342
میں کافی بارش ہوچکی تھی ۔ ان علاقوں میں قطعاًمزید بارش کی ضرورت نہیں تھی بلکہ وہاں زیادہ بارش سے نقصان ہونے کا اندیشہ تھا اسی لئے آپ نے دریافت فرمایا کہ بارش کہاں تک ہوئی ہے ؟جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ بارش اسی شہر میں ہوئی ہے جہاں بارش کی ضرورت تھی تو پھر آپ کو اطمینان ہوگیا کہ الحمدللہ ! اس بارش سے کہیں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    اللہ اکبر!بارگاہ الٰہی کے مقبول بندوں کی شان اوردربار خداوندی میں ان کی مقبولیت کا کیا کہنا ؟جب خدا سے عرض کیا بارش ہوگئی اورجہاں تک بارش برسانا چاہی وہیں تک برسی۔          

للہ! غور فرمائيے کہ کیا اولیاء اللہ کا حال اوران کی شان عام انسانوں جیسی ہے ؟ تو بہ نعوذباللہ ! کہاں یہ اللہ تعالیٰ کے پاک بندے اورکہاں منحوس اوردلوں کے گندے لوگ! ؎
چہ نسبت خاک را با عالم پاک
    حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :
کار پاکاں را قیاس از خود مگیر

گرچہ ماند در نوشتن شَیر و شِیر
  (یعنی پاک لوگوں کے معاملات کو اپنے اوپر مت قیاس کر، اگرچہ لکھنے میں شیر اورشیر بالکل ہم شکل اورمشابہ ہیں لیکن ایک شیر وہ ہے کہ انسان کو پھاڑ کر کھاجاتاہے اورایک شیر(دودھ) ہے کہ اسے انسان کھاتا اورپیتا ہے۔)
فَاعْتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ ﴿۲﴾ (1)
1۔۔۔۔۔۔ترجمۂ کنزالایمان: تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ (پ۲۸،الحشر:۲)
Flag Counter