Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
194 - 342
    حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں لوگوں کو تعلیم دینے کے لیے آپ مدینہ منورہ سے بصرہ چلے گئے۔ آپ کے سال وصال اورآپ کی عمر شریف کے بارے میں اختلاف ہے ۔مشہور یہ ہے کہ  ۹۱ھ؁ میں آپ کا وصال ہوا۔ بعضوں نے  ۹۲ھ؁ بعض نے  ۹۳ھ؁ بعض نے   ۹۰ھ ؁کو آپ کے وصال کا سال تحریر کیا ہے ۔ بوقت وصال آپ کی عمرشریف ایک سو تین برس کی تھی ۔ بعض نے ایک سو دس بعض نے ایک سو سات اوربعض نے ننانوے برس لکھا ہے ۔ بصرہ میں وفات پانے والے صحابیوں میں سے سب سے آخر میں آ پ کا وصال ہوا۔ آپ کے بعد شہر بصرہ میں کوئی صحابی باقی نہیں رہا۔ بصرہ سے دوکوس کے فاصلہ پر آپ کی قبر شریف بنی جو زیارت گاہ خلائق ہے۔ آپ بہت ہی حق گو، حق پسند ، عبادت گزارصحابی ہیں اورآپ کی چند کرامتیں بھی منقول ہیں۔ (1) (اکمال ،ص۵۸۵واسدالغابہ ،ج۱،ص۱۲۷)
کرامات 

سال میں دو مرتبہ پھل دینے والا باغ
    ان کی کرامتوں میں سے ایک کرامت یہ ہے کہ دنیا بھر میں کھجوروں کا باغ سال میں ایک ہی مرتبہ پھلتا ہے مگرآپ کا باغ سال میں دو مرتبہ پھلتا تھا ۔ (2)(مشکوٰۃ شریف، ج۲،ص۵۴۵)
کھجوروں میں مشک کی خوشبو
    اسی طرح یہ بھی آپکی بہت ہی بے مثال کرامت ہے کہ آپکے باغ کی کھجوروں
1۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال، حرف الہمزۃ، فصل فی الصحابۃ، ص۵۸۵

واسد الغابۃ، انس بن مالک بن النضر، ج۱، ص۱۹۲۔۱۹۵ ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب الفضائل و الشمائل، باب الکرامات، الحدیث:۵۹۵۲، 

ج۲، ص۴۰۱
Flag Counter