حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں لوگوں کو تعلیم دینے کے لیے آپ مدینہ منورہ سے بصرہ چلے گئے۔ آپ کے سال وصال اورآپ کی عمر شریف کے بارے میں اختلاف ہے ۔مشہور یہ ہے کہ ۹۱ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ بعضوں نے ۹۲ھ بعض نے ۹۳ھ بعض نے ۹۰ھ کو آپ کے وصال کا سال تحریر کیا ہے ۔ بوقت وصال آپ کی عمرشریف ایک سو تین برس کی تھی ۔ بعض نے ایک سو دس بعض نے ایک سو سات اوربعض نے ننانوے برس لکھا ہے ۔ بصرہ میں وفات پانے والے صحابیوں میں سے سب سے آخر میں آ پ کا وصال ہوا۔ آپ کے بعد شہر بصرہ میں کوئی صحابی باقی نہیں رہا۔ بصرہ سے دوکوس کے فاصلہ پر آپ کی قبر شریف بنی جو زیارت گاہ خلائق ہے۔ آپ بہت ہی حق گو، حق پسند ، عبادت گزارصحابی ہیں اورآپ کی چند کرامتیں بھی منقول ہیں۔ (1) (اکمال ،ص۵۸۵واسدالغابہ ،ج۱،ص۱۲۷)