ان کا وطن مکہ مکرمہ ہے اور یہ خاندان قریش کے بہت ہی ممتاز اورنامور شخص ہیں۔ یہ ابتدائے اسلام ہی میں مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے ۔ پھر ہجرت بھی کی ۔ نہایت ہی وجیہ بہت ہی بہادر اورجانبازصحابی ہیں ۔ ۲ھ میں ساٹھ یا اسّی مہاجرین کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو ''رابغ'' کی طرف جہاد کے لیے روانہ فرمایا۔ چنانچہ تاریخ اسلام میں مجاہدین کا یہ لشکر سریہ عبیدہ بن الحارث کے نام سے مشہور ہے۔
۲ھ جنگ بدر میں انہوں نے شیبہ بن ربیعہ سے جنگ کی جو لشکر کفار کے سپہ سالار عتبہ بن ربیعہ کا بھائی تھا۔ یہ بڑی جاں بازی کے ساتھ لڑتے رہے مگر اس قدر زخمی ہوگئے کہ ان کی پنڈلی ٹوٹ کر چور چور ہوگئی اورنلی کا گودا بہنے لگا ۔ یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے بڑھ کر شیبہ کو قتل کردیا اورحضر ت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے کاندھے پر اٹھاکر بارگاہ رسالت میں لائے ۔ اس حالت میں حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کیا میں شہادت سے محروم رہا؟ ارشاد فرمایا: ہر گز نہیں بلکہ تم شہادت سے سرفراز ہوگئے ۔ یہ سنکر انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اگر آج ابو طالب زندہ ہوتے تو وہ مان لیتے کہ ان کے اس شعر کا مصدا ق میں ہی ہوں ؎