Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
187 - 342
کے بہاؤ کے ساتھ بہتی ہوئی سمندر میں پہنچ گئی ۔

    روایت ہے کہ جس دن عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا اسی دن خداسے یہ عہد کیا تھا کہ میں نہ تو کسی کافر کے بدن کو ہاتھ لگاؤں گا نہ کسی کافر کو موقع دوں گا کہ وہ میرے بدن کو چھوسکے ۔ اللہ اکبر!خدا کی شان کہ زندگی بھر تو ان کا یہ عہدپورا ہوتاہی رہا مگر شہادت کے بعد بھی خدا وند قدوس نے ان کے اس عہد کو پورا فرمادیا کہ کفاران کے مقدس بدن کو ہاتھ نہ لگا سکے ۔ پہلے شہد کی مکھیوں کا پہرہ لگادیا پھر برساتی نالوں نے ان کے بد ن مبارک کو ان کے مدفن تک پہنچا دیا۔ (1)

(حجۃ اللہ ،ج۲،ص۸۶۹بحوالہ بیہقی وکنزالعمال ، ج۱۶،ص۱۷۸)
تبصرہ
    حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان دونوں کرامتوں کو پڑھ کر غور فرمائيے کہ اللہ تعالیٰ کا شہداء کرام پر کتنا فضل عظیم ہوتاہے اورراہ خدا میں جان فدا کرنے والوں کو رب العزت جل جلالہ کے دربار عالیہ سے کیسی کیسی عظیم الشان کرامتوں کے نشان عطاکئے جاتے ہیں ۔ وفات کے بعد بھی ان کے تصرفات بصورت کرامات جاری رہتے ہیں ۔ لہٰذا شہیدوں سے عقیدت ومحبت اوران کا ادب واحترام واجب العمل اورلازم الایمان ہوتاہے ۔
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث 

فی ذکر جملۃ جمیلۃ ...الخ، ص۶۱۸ 

ودلائل النبوۃ للبیھقی، باب غزوۃ الرجیع وما ظھر...الخ، ج۳، ص۳۲۸

وکنزالعمال،کتاب الفضائل، فضائل الصحابۃ، الحدیث:۳۷۴۶۵، ج۷، 

الجزء۱۳، ص۲۴۵
Flag Counter