Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
186 - 342
کا کوئی ایسا حصہ (سروغیرہ)کاٹ کر لائیں جس سے یہ شناخت ہوجائے کہ واقعی حضرت عاصم قتل ہوگئے ۔چنانچہ چند کفار ان کی لاش کی تلاش میں مقام رجیع تک پہنچ گئے مگر وہاں جاکر ان کافروں نے اس شہید مرد کی یہ کرامت دیکھی کہ لاکھوں کی تعداد میں شہد کی مکھیوں کے جھنڈنے ان کی لاش کے اردگرداس طرح گھیرا ڈال رکھا ہے جس سے وہاں تک کسی کا پہنچناہی ناممکن ہوگیا ہے اس لئے کفار مکہ ناکام ونامراد ہوکر مکہ واپس چلے گئے ۔(1) (بخاری، ج۲،ص۵۶۹وزرقانی ، ج۲،ص۷۳)
سمندر میں قبر
    ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مکہ کی ایک کافرہ عورت سلافہ بنت سعدکے دوبیٹوں کوحضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ احدمیں قتل کرڈالا تھا،اس لئے اس عورت نے جوش انتقام میں یہ قسم کھارکھی تھی کہ اگر مجھ کو عاصم بن ثابت کا سرمل گیا تو میں ان کی کھوپڑی میں شراب پیوں گی۔ چنانچہ اس نے کچھ لوگوں کو بھیجا تھا کہ تم ان کا سرکاٹ کر لاؤ، میں اس کو بہت بڑی قیمت دے کر خریدلوں گی۔ اس لالچ میں چند کفار مقام رجیع تک پہنچے مگر جب انہوں نے شہد کی مکھیوں کا گھیرادیکھاتوحواس باختہ ہوگئے مگر یہ چند لالچی لوگ اس انتظار میں وہاں ٹھہر گئے کہ جب کبھی بھی یہ شہد کی مکھیاں اڑ جائیں گی تو ہم ان کا سرکاٹ کر لے جائیں گے ۔ خدا کی شان کہ نہایت ہی زور دار بارش ہوئی اور پہاڑوں سے برساتی نالہ بہتا ہوا اس میدان میں پہنچا اوراس زور کا ریلا آیا کہ کفار جان بچانے کے لئے بھاگ کھڑے ہوئے اورآپ کی مقدس لاش پانی
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب۱۰، الحدیث:۳۹۸۹، ج۳، ص۱۵-۱۶

وحجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ،المطلب الثالث 

فی ذکر جملۃجمیلۃ ...الخ،ص۶۱۸
Flag Counter