| کراماتِ صحابہ |
روایت ہے کہ سولی پر چڑھائے جانے کے وقت حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاتلوں کے مجمع کی طرف دیکھ کر یہ دعا مانگی :
اَللّٰھُمَّ اَحْصِھِمْ عَدَدًا وَّاقْتُلْھُمْ بَدَدًا وَّلَا تُبْقِ مِنْھُمْ اَحَدًا۔
(یعنی اے اللہ! عزوجل تو میرے ان تمام قاتلوں کو گن کر شمار کرلے اور ان سب کو ہلاک فرمادے اوران میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ۔)ایک کافر کا بیا ن ہے کہ میں نے جب خبیب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو بددعا کرتے ہوئے سنا تو میں زمین پر لیٹ گیا تاکہ خبیب کی نظرمجھ پر نہ پڑے ۔ چنانچہ اس کا اثر یہ ہوا کہ ایک سال پورا ہوتے ہوتے تما م وہ لوگ جو آپ کے قتل میں شریک وراضی تھے سب کے سب ہلاک وبرباد ہوگئے۔ فقط تنہا میں بچ گیا ہوں۔ (1)(حجۃ اللہ علی العالمین،ج۲،ص۸۶۹وبخاری)
لاش کو زمین نگل گئی
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ارشاد فرمایا کہ مقام تنعیم میں حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش سولی پر لٹکی ہوئی ہے جو مسلمان ان کی لاش کو سولی سے اتار کر لائے گا میں اس کے لیے جنت کا وعدہ کرتاہوں۔ یہ خوشخبری سن کر حضرت زبیربن العوام اورحضرت مقداد بن الاسود رضی اللہ تعالیٰ عنہماتیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہوکر راتوں کو سفر کرتے اوردن میں چھپتے ہوئے مقام تنعیم میں گئے۔ چالیس کفار
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث فی ذکر جملۃجمیلۃ ...الخ،ص۶۱۸ وصحیح البخاری،کتاب المغازی، باب۱۰، الحدیث:۳۹۸۹، ج۳، ص۱۵ وفتح الباری شرح صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب غزوۃ الرّجیع...الخ، تحت الحدیث:۴۰۸۶،ج۷،ص۳۲۷