سولی کے پہرہ دار بن کر سور ہے تھے ۔ ان دونوں حضرات نے لاش کو سولی سے اتارا اور چالیس دن گزرجانے کے باوجود لاش بالکل تروتازہ تھی اور زخموں سے تازہ خون ٹپک رہا تھا ۔گھوڑے پر لاش کو رکھ کر مدینہ منورہ کا رخ کیا مگر ستر کافروں نے ان لوگوں کا پیچھا کیا ۔ جب ان دونوں حضرات نے دیکھا کہ اب ہم گرفتار ہوجائیں گے تو ان دونوں نے مقدس لاش کو زمین پر رکھ دیا۔ خدا کی شان دیکھئے کہ ایک دم زمین پھٹ گئی اور مقدس لاش کو زمین نگل گئی اور پھر زمین اس طرح برابر ہوگئی کہ پھٹنے کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔ یہی و جہ ہے کہ حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب ''بلیع الارض''(جن کو زمین نگل گئی)ہے ۔ پھران دونوں حضرات نے فرمایا کہ اے کفارمکہ!ہم تو دو شیر ہیں جو اپنے جنگل میں جارہے تھے اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو ہمارا راستہ روک کر دیکھ لو ورنہ اپنا راستہ لو جب کفار مکہ نے دیکھ لیا کہ ان دونوں حضرات کے پاس لاش نہیں ہے تو وہ لوگ مکہ واپس چلے گئے ۔(1) (مدارج النبوۃ،ج۲،ص۱۴۱)