Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
180 - 342
سولی کے پہرہ دار بن کر سور ہے تھے ۔ ان دونوں حضرات نے لاش کو سولی سے اتارا اور چالیس دن گزرجانے کے باوجود لاش بالکل تروتازہ تھی اور زخموں سے تازہ خون ٹپک رہا تھا ۔گھوڑے پر لاش کو رکھ کر مدینہ منورہ کا رخ کیا مگر ستر کافروں نے ان لوگوں کا پیچھا کیا ۔ جب ان دونوں حضرات نے دیکھا کہ اب ہم گرفتار ہوجائیں گے تو ان دونوں نے مقدس لاش کو زمین پر رکھ دیا۔ خدا کی شان دیکھئے کہ ایک دم زمین پھٹ گئی اور مقدس لاش کو زمین نگل گئی اور پھر زمین اس طرح برابر ہوگئی کہ پھٹنے کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔ یہی و جہ ہے کہ حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب ''بلیع الارض''(جن کو زمین نگل گئی)ہے ۔ پھران دونوں حضرات نے فرمایا کہ اے کفارمکہ!ہم تو دو شیر ہیں جو اپنے جنگل میں جارہے تھے اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو ہمارا راستہ روک کر دیکھ لو ورنہ اپنا راستہ لو جب کفار مکہ نے دیکھ لیا کہ ان دونوں حضرات کے پاس لاش نہیں ہے تو وہ لوگ مکہ واپس چلے گئے ۔(1) (مدارج النبوۃ،ج۲،ص۱۴۱)
تبصرہ
    شہید اسلام حضرت خبیب انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان چاروں کرامتوں کو پڑھ کر عبرت حاصل کیجئے کہ خداوند کریم شہداء کرام بالخصوص اپنے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام کے اصحاب کرام کو کیسی کیسی عظیم الشان کرامتوں سے سرفراز فرماتاہے اور یہ نصیحت حاصل کیجئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے دین اسلام کی خاطر کیسی کیسی قربانیاں پیش کی ہیں اورپھر سوچئے کہ ہم آج کل کے مسلمان اسلام کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ اورہمیں کیا کرنا چاہیے اورپھر خدا کا نام لے کر اٹھئے اوراسلام کے لیے کچھ کرڈالئے ۔
1۔۔۔۔۔۔مد ا رج النبوت، قسم سوم، باب سوم، ج۲، ص۱۴۱
Flag Counter