Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
178 - 342
موسم بھی نہیں تھا۔(1)(حجۃ اللہ علی العالمین،ج۲،ص۸۶۹ و بخاری شریف )
مکہ کی آواز مدینہ پہنچی
    جب حضر ت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سولی پر چڑھائے گئے تو انہوں نے بڑی حسرت کے ساتھ کہا کہ یاا للہ ! عزوجل میں یہاں کسی کو نہیں پاتا جس کے ذریعے میں آخری سلام تیرے پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تک پہنچا سکوں لہٰذا تو میرا سلام حبیب علیہ الصلوۃ والسلام تک پہنچا دے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا بیان ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ کے اندر اپنے اصحاب کی مجلس میں رونق افروز تھے کہ بالکل ہی ناگہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے بلند آواز سے وعلیک السلام فرمایا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا :یا رسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کس کے سلا م کا جواب دیا ہے ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا دینی بھائی خبیب ابھی ابھی مکہ مکرمہ میں سولی پر چڑھا دیا گیا ہے اوراس نے سولی پر چڑھ کر میرے پاس اپنا سلام بھیجا ہے اورمیں نے اس کے سلام کا جواب دیاہے ۔ (2)

                 (حجۃ اللہ علی العالمین،ج۲،ص۸۶۹)
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث 

فی ذکر جملۃ جمیلۃ ...الخ، ص۶۱۸

وصحیح البخاری،کتاب المغازی، باب۱۰، الحدیث:۳۹۸۹، ج۳، ص۱۵

2۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث 

فی ذکر جملۃ جمیلۃ ...الخ،ص۶۱۹

وفتح الباری شرح صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب غزوۃ الرّجیع...الخ،تحت 

الحدیث:۴۰۸۶، ج۷، ص۳۲۷
Flag Counter