| کراماتِ صحابہ |
کر شہید کیا۔ سولی پر چڑھنے سے پہلے انہوں نے دورکعت نماز پڑھی اورفرمایا کہ اے گروہ کفار سن لو ! میرا دل تو یہی چاہتاتھا کہ دیر تک نما زپڑھتا رہوں کیونکہ یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے مگر مجھ کویہ خیال آگیا کہ کہیں تم لوگ یہ نہ سمجھ لو کہ میں شہادت سے ڈررہا ہوں اس لئے میں نے بہت ہی مختصر نماز پڑھی ۔ کفار نے آپ کو جب سولی پر چڑھا دیا تو آپ نے چند وجد آفریں اورایمان افروزاشعار پڑھے پھر حارث بن عامر کے بيٹے ''ابوسروعہ'' نے آپ کے مقدس سینہ میں نیزہ مار کر آپ کو شہید کردیا۔(1)آپ کی شہادت کا مفصل حال آ پ ہماری کتاب ''ایمانی تقریریں''اور ''سیرۃ المصطفی'' میں پڑھئے۔ ان کی مندرجہ ذیل کرامات قابل ذکرہیں۔
کرامات بے موسم کا پھل
جن دنوں یہ حارث بن عامر کے بیٹوں کی قید میں تھے ظالموں نے دانہ پانی بند کردیا تھا اوران کو زنجیروں میں اس طرح جکڑدیا تھا کہ ان کے ہاتھ پاؤں دونوں بندھے ہوئے تھے۔حارث بن عامر کی بیٹی کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نے خبیب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے اچھا کوئی قیدی نہیں دیکھا میں نے بارہا یہ دیکھا کہ وہ قید کی کوٹھڑی کے اندر زنجیروں میں بندھے ہوئے بہترین انگوروں کا خوشہ ہاتھ میں لئے کھا رہے ہیں حالانکہ خدا کی قسم!ان دنوں مکہ معظمہ کے اندر کوئی پھل بھی نہیں ملتا تھا اورانگورکا تو
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع...الخ، الحدیث: ۴۰۸۶، ج۳،ص۴۶ والمواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،کتاب المغازی،بعث الرجیع،ج۲،ص۴۸۱۔۴۹۰ ملتقطاً