| کراماتِ صحابہ |
مقدس طریقہ ہے ۔ چنانچہ پرانے زمانے کے خوش عقیدہ اورنیک تاجروں کا یہی طریقہ تھا کہ وہ جب کوئی تجارت کرتے تھے تو کسی عالم دین یا پیر طریقت کا کچھ حصہ اس تجارت میں مقرر کر کے ان بزرگوں کو اپنا شریک تجارت بنالیتے تھے تاکہ ان اللہ والوں کی و جہ سے تجارت میں خیر وبرکت ہو۔ اسی لئے آج کل بھی بعض خوش عقیدہ اورنیک بخت مؤمن خصوصاًمیمن اپنی تجارت میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حصہ دار بنالیتے ہیں اور نفع میں جتنی رقم حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام کی نکلتی ہے ۔ اس کو یہ لوگ نیاز کھاتہ کہتے ہیں اور اسی رقم سے یہ لوگ گیارہویں شریف کی فاتحہ بھی دلاتے ہیں اورعالموں اورسیدوں کو اسی رقم سے نذرانہ بھی دیا کرتے ہیں ۔ یقینایہ بہت ہی اچھا طریقہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(۲۱) حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
یہ مدینہ منورہ کے انصاری ہیں اورقبیلہ انصار میں خاندان اوس کے بہت ہی نامی گرامی فرزند ہیں ۔ بہت ہی پرجوش اورجانبازصحابی ہیں اور حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے انکو بے پناہ والہانہ عشق تھا۔ جنگ بدر میں دل کھول کر انتہائی بہادری کے ساتھ کفار سے لڑے ۔ جنگ احد میں بھی آپ کے مجاہدانہ کارنامے شجاعت کے شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ۴ھ میں عسفان ومکہ مکرمہ کے درمیان مقام ''رجیع''میں یہ کفار کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے ۔چونکہ انہوں نے جنگ بدر میں کفار مکہ کے ایک مشہور سردار''حارث بن عامر''کو قتل کردیا تھااس لئے ان کے بیٹوں نے ان کو خریدلیا اور لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کو اپنے گھر کی ایک کوٹھڑی میں قید کردیا ۔ پھر مکہ مکرمہ سے باہر مقام ''تنعیم''میں لے جا کر ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے ان کو سولی پر چڑھا کر شہید کردیا ۔ اسلام میں یہ پہلے خوش نصیب صحابی ہیں جن کو کفار نے سولی پر چڑھا