| کراماتِ صحابہ |
میرے اس بچے سے بیعت لے لیجئے ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت ہی چھوٹا ہے ۔ پھراپنا مقدس ہاتھ ان کے سر پر پھیرا اوران کے لیے خیر وبرکت کی دعا فرمادی ۔ (1)(اسدالغابہ،ج۳،ص۲۷۰واکمال ،ص۵۹۵)
کرامت تجارت میں برکت
اسي دعائے نبوی کی بدولت ان کو یہ کرامت حاصل ہوئی کہ ان کو تجارت میں نفع کے سواکسی سودے میں کبھی بھی نقصان ہوا ہی نہیں ۔ روایت ہے کہ یہ اپنے پوتے زہرہ بن معبد کو ساتھ لے کر بازار میں جاتے اورغلہ خریدتے تو حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان سے ملاقات کرتے اورکہتے کہ ہم کو بھی آپ اپنی اس تجارت میں شریک کرلیجئے اس لئے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے لیے خیروبرکت کی دعا فرمائی ہے ۔ پھر یہ سب لوگ اس تجارت میں شریک ہوجاتے تو بسا اوقات اونٹ کے بوجھ برابر نفع کمالیتے اور اس کو اپنے گھر بھیج دیتے ۔ (2)(بخاری ،ج۱،ص۳۴۰،باب الشرکۃ فی الطعام)
تبصرہ
نیک او رصالح لوگوں کو اپنے کاروبار اوردھندے روزگار میں اس نیت سے شریک کرلینا کہ ان کی برکت سے ہم فیض یاب ہوں گے ۔یہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا
1۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ، عبد اللہ بن ہشام ، ج۳، ص۴۲۱ والاکمال فی اسماء الرجال، حرف العین، فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۵ 2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب الشرکۃ، باب الشرکۃ فی الطعام وغیرہ، الحدیث:۲۵۰۱، ج۲،ص۱۴۵